11 نومبر 2012 - 20:30

ترکی کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء نے انقرہ میں پولیٹکل یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

ابنا: مظاہرین نے حکومت کی تعلیمی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے ترکی کے اخبار " ملیت " کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے طلبہ نے رجب طیب اردوگان کی پالیسیوں پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو عوام اور طلبہ مخالف قرار دیا ہے ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتنے اٹھا رکھے تھے جن پر " ترکی کے نوجوان بادشاہت قبول نہیں کریں گے اور انصاف اور جسٹس پارٹی شکست کھائے گی جیسے نعرے درج تھے۔ ترکی میں یونیورسٹی طلباء کی طرف سے اردوگان حکومت کے خلاف یہ پہلا احتجاج نہیں ہے بلکہ گذشتہ کچھ عرصے سے ترکی کی موجودہ حکام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے ۔ اس سے پہلے امریکہ اور نیٹو کی طرف سے ترکی میں ڈیفنس میزائل سسٹم کی تنصیب پر بھی عوامی مظاہرے ہوئے تھے ۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ترکی کی موجودہ حکومت کے حوالے سے عوام نے دو مواقع پر رجب طیب اردوگان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا۔پہلا موقع وہ تھا جب انہوں نے یونیورسٹیوں میں پردے پر پابندی کے قانون کو ختم کیا تھا اسی طرح ترکی کے حکام نے جب سوئٹزرلینڈ میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف سخت ردعمل کے مظاہرہ کیا تو ترکی سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس اقدام کو سراہا ۔ ترکی کی طرف سے اسطرح کے اقدامات کا سلسلہ جاری نہ رہ سکا تجزیہ نگاروں کے بقول اب تو واضح طور پر محسوس ہورہا ہے کہ ترکی کی موجودہ حکومت امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے ۔ ترک حکام یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کی مقبولیت کی بنیادی وجہ خطے میں اسرائیل کی کامیابی ، شام میں مداخلت اور علاقائی سیاست میں عرب ممالک کی پیروی ہے اسکے علاوہ  ترک حکام نے خلافت عثمانیہ کے احیاء جیسی تھیوری کو بھی اپنے وزير خارجہ کے ذریعے بیان کیا۔بہرحال رجب طیب اردوگان جب تک ترک عوام کی حمایت اور مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے  لئے سرگرم عمل رہیں گے انہیں داخلی اور  عالمی سطح پرمسلمانوں کی بھی حمایت حاصل رہے گي۔ترکی کے پولیٹکل سائنس کے طلباء کی طرف سے طیب اردوگان کے خلاف حالیہ مظاہرے عوام کے نعروں اور مطالبات کا پرتو ہیں اور اب یہ بات عام ہورہی ہے کہ انصاف اور ترقی پارٹی کا ستارہ زوال کا شکار ہے اور جس حکومت کو عالم اسلام کے دوسرے ممالک کے لئے ایک نمونہ ہونا چاہیے تھا وہ اسلام دشمنوں کی پیروی کرکے ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں اسے اندرونی بقا کی جنگ کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لانا پڑرہا ہے۔

...........

/110